Islamic Blog
آج کا مسلمان 7 : دعویِٰ محبت یا تضادِ زندگی؟اسلام:Modern Muslim ظاہر اور باطن کا سنگم
In this discussion about Modern Muslim life.

اسلام محض چند رسومات یا ظاہری حلیہ اپنا لینے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ظاہر اور باطن کے مجموعے کا نام ہے۔ صرف داڑھی رکھ لینا یا پانچ وقت کی نماز پڑھ لینا کافی نہیں جب تک کہ انسان ان تمام باتوں کا من و عن اقرار اور اتباع نہ کرے جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں۔ آج المیہ یہ ہے کہ ہم زبان سے تو مسلمان ہیں، لیکن ہمارے طور طریقے، رسم و رواج اور اخلاقیات وہی ہیں جو غیروں کی ہیں۔ ﷺ
Challenge of Modern Muslim Life.
لْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ” (مضبوط مومن، کمزور مومن سے بہتر اور اللہ کو زیادہ محبوب ہے
کفارِ مکہ کی “سچائی” اور ہمارا تضادتاریخ کا ایک بڑا سبق اس مکالمے میں چھپا ہے جب ابوطالب نے نبی کریم ﷺ کو بلایا کہ مکہ کے سردار صلح چاہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں ان سے صرف ایک کلمہ مانگتا ہوں جس کے بدلے عرب و عجم ان کے زیرِ نگین ہوں گے۔ ابوجہل اور ابولہب نے کہا کہ ہم ایسے دس کلمے کہنے کو تیار ہیں، لیکن جب آپ ﷺ نے فرمایا کہو: “لا الہ الا اللہ”، تو وہ چیخ اٹھے۔
وہ کافر ہونے کے باوجود اس کلمے کی حقیقت جانتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر “لا الہ الا اللہ” کہہ دیا تو کعبے کے 360 بتوں کو بھی چھوڑنا ہوگا، سود، شراب، زنا، بددیانتی اور حرام خوری سے بھی توبہ کرنی ہوگی۔
وہ اپنی کفر میں سچے تھے اس لیے انہوں نے کلمہ نہیں پڑھا، اور ایک ہم ہیں کہ کلمہ پڑھ کر بھی انہی گناہوں اور بتوں کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ ﷺحیا کا معیار اور ہمارا طرزِ عملذرا غور کریں اس گھرانے پر جس کی پاکیزگی کی قسمیں کھائی جاتی ہیں۔ ایک بار ایک صحابی آپ ﷺ سے ملنے آئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سامنے آگئیں تو آپ ﷺ نے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ جب عرض کیا گیا کہ “یا رسول اللہ! وہ تو نابینا تھے”، تو آپ ﷺ نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: “وہ نابینا تھے، تم تو نابینا نہیں تھیں۔
آج ہمارا حال دیکھ لیں! ہم خود کو دیندار بھی کہتے ہیں اور شادی بیاہ کے موقعوں پر حیا کے سارے پردے چاک کر دیتے ہیں۔ ہم اپنی عورتوں کو بن سنور کر غیر مردوں اور غیر محرموں کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں اور ہمیں ذرہ برابر غیرت محسوس نہیں ہوتی کہ کوئی غیر مرد ہماری بیوی یا بیٹی کو کیوں دیکھ رہا ہے۔
کیا کلمہ صرف زبان سے دہرانے کا نام ہے؟ اگر ہماری خوشیاں، ہماری غمیاں اور ہماری محفلیں وہی ہیں جو کفار کی ہیں، تو پھر ہمارے ایمان کا نور کہاں ہے؟ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اسلام پورے کا پورا زندگی میں داخل کرنے کے لیے ہے، نہ کہ اپنی مرضی کے مطابق اسے ٹکڑوں میں بانٹنے کے لیے۔
This is why a Modern Muslim must stay connected to their roots
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ”
(اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے)
The Reality of World for a Modern Muslim
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرے ہوئے کان کٹے بکری کے بچے کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ نے اسے کان سے پکڑا اور صحابہ کرام سے پوچھا: “تم میں سے کون اسے ایک درہم کے بدلے لینا پسند کرے گا؟” انہوں نے عرض کیا: ہم اسے کسی بھی چیز کے بدلے لینا پسند نہیں کرتے، یہ ہمارے کس کام کا ہے؟ ﷺ
تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ” (خدا کی قسم! اللہ کے نزدیک دنیا اس (مرے ہوئے بچے) سے بھی زیادہ ذلیل اور حقیر ہے جتنا کہ یہ تمہارے نزدیک حقیر ہے)
So, every Modern Muslim should prioritize the hereafter over temporary world.
آپ ہماری ویب سائٹ پر بہترین [اسلامک کلیکشن] بھی دیکھ سکتے ہیں۔
Ebnee Adam E Store
Masha Allah sucha heart touches lines may Allah bless your life
Great work mashaAllah 💗💗
no dobt trully hard work on it i really appreciate it Masha Allah may allah accept author hard work